Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
47 - 82
مصعب بن عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو غزوہ اُحد کے دن شہید ہوگئے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کفن کے لئے سوائے ایک چادرکے کچھ نہیں تھا، جب ہم اس چادرکواُن کے سرپر ڈالتے توپاؤں ظاہرہوجاتے اور جب پاؤں چھپاتے تو سر ظاہر ہوجاتا ، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''چادرکوان کے سرپرڈال دو اور پاؤں پراِذْخَر( ایک گھاس کانام) ڈال دو۔حضرت سیدنا خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اور ہم میں سے بعضوں کی محنت کا پھل پک چکاہے اور وہ اس کو چن چن کر کھارہاہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب فی کفن المیت،الحدیث:۲۱۷۷،ص۶۲۵)
    امیرالمومنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' ہم حضورنبی مکرم ،شفیع معظم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ،اتنے میں حضرت سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حال میں ہمارے پاس آئے کہ ان کے بدن پر صرف ایک پھٹی پرانی پیوندلگی ہوئی چادر تھی۔''جب حضوررحمتِ کونین ،دکھی دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کو دیکھا توروپڑے کہ کل جو آسائشوں اورنعمتوں میں رہتاتھا آج اس حالت میں ہے۔

    پھرحضورنبی پاک،صاحب لولاک، سیَّاح افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ''اس وقت تمہاری کیاحالت ہوگی جب تم میں سے کوئی صبح میں ایک لباس پہنے گااورشام میں دوسرالباس پہنے گا، اس کے سامنے(کھانے وغیرہ کا) ایک پیالہ رکھا جائے گا اوردوسرا اٹھا یا جائے گا۔اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردے لٹکاؤگے جس طرح کعبہ معظمہ پرپردہ ہے ۔'' صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل و
Flag Counter