Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
45 - 82
بہت شاق گزرا اور میں نے اپنے دل میں کہاکہ یہ دودھ اہل صفہ کوکفایت نہیں کریگا،میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ یہ دودھ پینے کو ملتا اور اس سے اپنی کمزوری دور کرتا پس جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم گھر آئے تھے تو مجھے پینے کا حکم فرمادیتے، پس اگر میں نے یہ دودھ ان کوپلادیاتومجھے اس میں سے کچھ بھی ملنے کی امیدنہیں ، لیکن اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اطاعت بھی ضروری ہے ،اس لئے میں جاکر اہل صفہ کوبلالایا،انہوں آکرداخل ہونے کی اجازت چاہی ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اجازت عطافرمائی اور وہ سب گھر میں آکر بیٹھتے گئے۔

     حضورنبی اکرم ،شفیع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''اے ابوہریرہ '' میں نے عرض کی:''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمَّ !میں حاضرہوں۔'' ارشاد فرمایا :''پیالہ اٹھاؤاوران کوپلاتے جاؤ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''میں نے پیالہ اٹھایااورایک شخص کو دیااس نے پینا شروع کیایہاں تک وہ سیراب ہوگیا تواس نے پیالہ مجھے واپس کردیا، پھر دوسرے شخص کوپیالہ دیااس نے بھی پیاحتی کہ وہ بھی سیراب ہوگیاتواس نے پیالہ مجھے واپس کردیا، اسی طرح ہر ایک پی کر پیالہ مجھے لوٹا دیتا حتی کہ میں حضور نبی کریم ،رء ُوف رحیم ، محبوب ربِّ عظیم عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تک پہنچ گیا اورتمام کے تمام لوگ سیراب ہوگئے ۔

    پھرحضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پیالہ لے کر اپنے دستِ مبارک میں پکڑلیا اورمیری طرف دیکھ کرتبسم فرمانے لگے اورارشاد فرمایا :''اے ابوہریرہ !'' میں نے عرض کی :
''لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ !
یعنی میں حاضرہوں اے اللہ عزوجل کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔'' ارشادفرمایا :''میں اورآپ رہ گئے ہیں۔'' میں نے عرض
Flag Counter