Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
44 - 82
علیہ وآلہ وسلَّم چلے اورمیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔

    پس حضورنبی پاک،صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم گھرمیں داخل ہوئے اورمجھے بھی اجازت عطافرمائی جب اندرگئے توحضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا،توگھروالوں سے استفسارفرمایا:''یہ دودھ کہاں سے آیا ؟'' انہوں نے عرض کی :'' فلاں شخص یافلاں عورت(یہاں راوی کوشک ہے) نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے تحفہ بھیجا ہے۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا :''اے ابوہریرہ !''میں نے عرض کی:
''لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ !
یعنی میں حاضر ہوں اے اللہ عزوجل کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔ ''ارشادفرمایا:'' اہل صفّہ ۱؎ کے پاس جاؤاوران سب کومیرے پاس بلالاؤ۔''

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے ، اہل وعیال ،مال اورکسی شخص کے پاس نہیں جاتے تھے۔ جب سرکارِدوعالم،رسولِ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کوئی ''صدقہ ''آتا تو اسے اصحابِ صفہ کو بھیج دیتے اورخود اس میں سے کچھ نہ لیتے اور جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں کوئی ہدیہ(یعنی تحفہ) آتا تواہل صفہ کو بھیجتے،خود بھی اس میں سے لیتے اور انہیں بھی ساتھ شریک کرتے ۔پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھ پریہ معاملہ
۱؎:مُجَدِّدِاعظم سیدی اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن فتاوی رضویہ شریف میں مجمع بحارالانوارکے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
''اہل الصفۃ فقراء المھاجرین ومن لم یکن لہ منھم منزل یسکنہ فکانوایاوون الی موضع مظل فی مسجدالمدینۃ
  ترجمہ:اہل صفہ مہاجرین فقراء میں سے تھے اورجس کے لئے گھرنہ ہوتاوہ وہیں ٹھہرتا،پس اہلِ صفّہ مسجدنبوی میں ایک چھت دارجگہ میں رہتے تھے
(فتاوی رضویہ،ج۸،ص۶۴)
Flag Counter