Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
41 - 82
مہمان کسی کے نہیں۔''پھروہ جاکران کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے آئے جس میں ادھ پکی کھجوریں، چھوہارے اورتازہ کھجوریں تھیں ،انہوں نے عرض کی:''آپ یہ تناول فرمائیں۔''اور خود چھری سنبھال لی توآقائے دوجہاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم نے اس سے فرمایا :''دودھ دینے والی بکری ذبح نہ کرنا۔'' پس اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی ،سب نے اس بکری کا گوشت کھایا ، کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔جب سب نے سیرہوکرکھاپی لیا توحضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ارشادفرمایا : '' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! بروزِ قیامت تم سے ا ن نعمتوں کے بارے میں ضرورپوچھا جائے گا ،تمہیں بھوک نے گھر سے نکالا پھرواپس ہونے سے پہلے تمہیں یہ نعمتیں مل گئیں۔''
(صحیح مسلم،کتاب الاشربہ،باب جوازاستتباعہ......الخ،الحدیث:۵۳۱۳،ص۱۰۴۱)
زُہدمیں مقامِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم
    حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی اپنے مدنی آقا،دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنتوں کی مکمل اتباع کرتے تھے،ان میں سے بعض کے زہدوتقوی کویہاں بیان کیاجاتاہے۔
(۱)۔۔۔۔۔۔مدنی آقا صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کے گھروالے :
    سب سے پہلے حضرت سیدنا علی المرتضی ، حضرت سیدتنافاطمۃ ا لزھراء، حضرت سیدنا حسن اورحضرت سیدناحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کاذکرکیاجاتاہے جواہل بیت اورحضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سب سے قریبی رشتہ دارہیں۔چنانچہ،
Flag Counter