مہمان کسی کے نہیں۔''پھروہ جاکران کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے آئے جس میں ادھ پکی کھجوریں، چھوہارے اورتازہ کھجوریں تھیں ،انہوں نے عرض کی:''آپ یہ تناول فرمائیں۔''اور خود چھری سنبھال لی توآقائے دوجہاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم نے اس سے فرمایا :''دودھ دینے والی بکری ذبح نہ کرنا۔'' پس اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی ،سب نے اس بکری کا گوشت کھایا ، کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔جب سب نے سیرہوکرکھاپی لیا توحضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ارشادفرمایا : '' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! بروزِ قیامت تم سے ا ن نعمتوں کے بارے میں ضرورپوچھا جائے گا ،تمہیں بھوک نے گھر سے نکالا پھرواپس ہونے سے پہلے تمہیں یہ نعمتیں مل گئیں۔''