حضرت سیدناکعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''میں کچھ لانے کے لئے چلاگیا اور راستے میں دیکھا ایک یہودی اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا ،میں نے اس کے اونٹوں کوپانی پلایا اور ہر ڈول کے عوض ایک کھجور بطوراُجرت لی ،پھر ساری کھجوریں اکھٹی کرکے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں پیش کردیں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا :''اے کعب ! یہ کہاں سے لائے ہو ؟ ''تو میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے معاملہ عرض کردیاتوحضورنبی رحمت، شفیع امت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :''اے کعب !کیاتم مجھ سے محبت کرتے ہو؟'' میں نے عرض کی:'' میرے باپ آپ پرقربان ،جی ہاں! یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔'' ارشادفرمایا:''جو مجھ سے محبت رکھتا ہے فقر اس پر اس سے بھی جلدی آتا ہے جتنا پانی اپنے گڑھے کی طرف جاتاہے ،عنقریب تم پربھی آزمائش آئے گی پس اس کے لئے تیاررہنا۔''
(پھرکچھ دن کے بعد) حضورنبی پاک،صاحب لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ پایا توصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا : ''کعب کو کیا ہوا؟'' انہوں نے عرض کی :''وہ بیمارہیں۔'' توحضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تشریف لے گئے اوران کے گھر پہنچ کر ارشادفرمایا:''اے کعب !تیرے لئے خوشخبری ہو ۔''(یہ سن کر) حضرت سیدنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ نے کہا:''اے کعب! تجھے جنت کی خوشخبری ہو۔'' تو حضور نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''یہ اللہ عزوجل پرقسم کھانے والی کون ہے ؟'' حضرت سیدناکعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ میری والدہ ہیں۔'' حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' اے کعب کی