ومکان،مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسی چٹائی پرآرام فرما رہے تھے جس پرکچھ بچھا ہوانہ تھا،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک سر کے نیچے چمڑے کاایک تکیہ تھاجس میں کھجورکی چھال بھری ہوئی تھی ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مقدس قدموں کی طرف ''سلم ''درخت کے پتوں کاڈھیرلگا ہوا تھا اورسرِاقدس کے پاس چمڑا لٹک رہا تھا۔میں نے دیکھاکہ اُمت کے غمخوارآقا ، دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پہلوپرچٹا ئی کے نشان پڑگئے تھے ،یہ دیکھ کرمیں رونے لگا۔''
نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سَرْوَر،دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''کیوں روتے ہو؟''میں نے عرض کی:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !قیصروکسرٰی دنیا کی آسائشوں اورنعمتوں میں ہیں جبکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تواللہ عزوجل کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں؟''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :''اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کیا تم اس پرراضی نہیں کہ ان کے لئے دنیاکی عارضی نعمتیں ہوں اور تمہارے لئے آخرت کی ابدی راحتیں ؟''