''اَللّٰھُمْ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًاوَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًاوَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
ترجمہ:اے اللہ عزوجل !مجھے مسکینی اورفقرکی حالت میں زندہ رکھ اوراسی حالت میں وفات دے اورمجھے بروزقیامت بھی مساکین کے گروہ میں اٹھانا۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الزھد،باب ماجاء ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنتہ.....الخ،الحدیث:۲۳۵۲،ص۱۸۸۸)
مالکِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کافقراختیاری تھا
یادرہے کہ رحمتِ عالمیان ،مالک دوجہان،ہادی انس وجان حضورنبیئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فقر(یعنی ظاہری مال واسباب کاکم ہونا) اضطراری نہیں تھا بلکہ اختیاری ۱؎تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فقر کو دنیاوی تونگری پر اورآخرت کو دنیا پر ترجیح دی ۔ اوراس شخص کی تعریف فرمائی ہے جو کم مال پر قناعت کرے، جسے روزی بقدرِ ضرورت عطا کی گئی ہو لیکن ذوق وشوق کے ساتھ عبادت میں مصروف رہے ۔چنانچہ،
(۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیوں کے سلطان ،سرورِ ذیشان ، سردارِ دوجہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عالیشان ہے:''تحقیق فلاح پاگیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیااوراسے بقدرِ ضرورت رزق دیا گیا اوراللہ تعالیٰ نے اسے