| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
کیااوراگر سوال کیاتو بقدرِکفایت کاسوال کیا ۔چنانچہ،
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دعا مانگی :''اے اللہ عزوجل ! محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ) کی آل کواتنارزق عطافرماجوبقدرِضرورت ہو۔''(المرجع السابق،الحدیث:۲۳۶۱)
حقیقی تونگری، دل کی تونگری ہے:
رحمتِ عالم ،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بھی بیان فرمادیا کہ حقیقی تونگری یہ نہیں کہ لوگوں کے پاس مال کی کثرت ہوبلکہ حقیقی تونگری تودل کی تونگری کانام ہے (یعنی سوال کرنے کو پسند نہ کرے اور جو موجود ہے اسی پر قناعت کرے)۔چنانچہ،
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ، صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :''تونگری یہ نہیں کہ سازوسامان کی کثرت ہو بلکہ اصل تونگری تو دل کا تونگر ہوناہے ۔''(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب الغنی غنی النفس،الحدیث۶۴۴۶،ص۵۴۱)
اللہ عزوجل اس شاعرپررحم فرمائے جس نے یہ کہا:
غِنَی النَّفْس مَایُغْنِیْکَ عَنْ سَدِّ حَاجَۃٍ فَاِنْ زَادَشَیْئًاعَادَذَاکَ الْغِنٰی فَقْرًا
ترجمہ:دل کی تونگری وہ ہے جو ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تجھے کافی ہوجائے ، تو اگروہ ضرورت سے زیادہ کرے تووہی تونگری، فقر میں بدل جائے گی۔ ایک دوسرے شاعر نے کہاـ:
وَمَنْ یُنْفِقُ السَّاعَاتِ فِیْ جَمْعِ مَالِہٖ مَخَافَۃَ فَقْرٍ فَالَّذِیْ فُعِلَ الْفَقْرُ