Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
33 - 82
عزوجل کے بندوں میں سے کسی کابھی قرض باقی نہ رہے،۔۔۔۔۔۔اور(اگرقرض ہوتو)اس کی ادائیگی میں جلدی کر،۔۔۔۔۔۔کیونکہ قرض روح کو(دخولِ جنت سے )روک دے گااوراسے قیدکردے گااگرچہ وہ شہیدکی روح ہی کیوں نہ ہو۔چنانچہ،

    حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم،رُء وف رحیم ،محبوب ربِّ عظیم عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اُحدپہاڑکے برابرسوناہواوراسی حالت میں تیسرادن آجائے اورمیرے پاس ایک دیناربھی بچارہے ،سوائے اس دینارکے جسے میں اپنا قرض ادا کرنے کے لئے روک لوں۔''
(صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب تغلیظ عقوبۃ.....الخ،الحدیث:۲۳۰۲،ص۸۳۴)
اِمامُ الزاہد ین صلی اللہ علیہ وسلم
     اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں :''اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وصالِ ظاہری فرماگئے اورہمارے پاس کوئی ایسی شئے نہ تھی جسے کوئی جاندارکھاسکے مگرتھوڑے سے جَومیری کٹھلیامیں تھے،میں ایک مدت تک اس سے کھاتی رہی پھرمیں نے ان کوماپ لیاتووہ ختم ہوگئے ۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب فضل الفقر،الحدیث:۶۴۵۱،ص۵۴۲)
     حضرت سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادفرماتے ہیں:'' مدینے کے تاجدار،دوعالم کے مالک ومختارباذنِ پروردگار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خوان (یعنی چھوٹی میزکی مثل اونچے دسترخوان )پرکھانا نہیں کھایا اور نہ
Flag Counter