Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
32 - 82
سب سے زیادہ خسارہ پانے والے:
    حضرت سیدناابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''میں نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس پہنچاجبکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کعبۃاللہ شریف کے سائے میں تشریف فرما تھے ،جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے دیکھا توارشادفرمایا:''ربِ کعبہ عزوجل کی قسم!وہ سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں۔'' حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' میں قریب آکربیٹھ گیاجبکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بارباریہی فرماتے جارہے تھے ، یہاں تک میں کھڑاہوکرعرض گزارہو:''یارسولَ اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرقربان !وہ کون لوگ ہیں ؟''توحضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' وہ مال ودولت کی کثرت والے ہوں گے مگروہ جودائیں،بائیں،آگے اورپیچھے خرچ کریں اوروہ بہت تھوڑے ہوں گے اور جوبھی اونٹ یاگائے یابکریوں کامالک ہواوران کی زکوٰۃ ادانہ کرے تووہ (جانور) قیامت کے دن پہلے سے زیادہ بڑے اورموٹے ہوکرآئیں گے اوراپنے مالک کو سینگوں سے ماریں گے اورکھروں سے روندڈالیں گے یہاں تک کہ تمام لوگوں کا حساب وکتاب ختم ہوجائے گا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب تغلیط عقوبۃ،الحدیث:۲۳۰۰،ص۸۳۴)
قرض کی ادائیگی میں جلدی کرو:
    اے صاحبِ مال !تجھے نجات دینے والی شئے یہ بھی ہے کہ تیرے ذمّے اللہ
Flag Counter