حضرت سیدنا ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''میں ایک رات گھرسے نکلاتوکیادیکھتاہوں کہ رسول ِاکرم ،نورمجِسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تنہا تشریف لے جا رہے ہیں اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ کوئی بھی آدمی نہیں تھا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے گمان کیا شاید آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے ساتھ کسی دوسرے کاچلنانا پسند فرمائیں ۔تو میں چاندنی میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلتا رہاکہ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پیچھے مڑکرمجھے دیکھ لیااورارشادفرمایا:'' کون ہے؟'' میں نے عرض کی:''اللہ عزوجل مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر فدا کرے ،میں ابوذرہوں۔''
ارشادفرمایا:''اے ابوذر!آجاؤ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''میں تھوڑی دیر حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ چلا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ''زیادہ مال جمع کرنے والے قیامت کے دن کم نیکیوں والے ہوں گے مگر جسے اللہ عزوجل نے مال عطا فرمایا اوروہ اسے اپنے دائیں،بائیں ،آگے اورپیچھے(نیکی کے کاموں میں) خرچ کرے اوراس کے ذریعے اچھے (یعنی نیکی کے) کام کرے ۔''