Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
30 - 82
 ہم میں سے ہرشخص کواپنامال زیادہ پیاراہے۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اس کا اپنا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا اور وارث کا ما ل وہ ہے جو اس نے پیچھے چھوڑا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب ماقدم من مالہ فھولہ،الحدیث:۶۴۴۲،ص۵۳۱)
طالب دنیا کا انجام
    اے پیارے اسلامی بھائی !قرآنِ کریم سے غافل مت ہو اور اُس سے رشتہ نہ توڑکیونکہ یہ تجھے اچھاسمجھانے والاہے ،۔۔۔۔۔۔بے شک اللہ عزوجل دنیاکو طلب کرنے اوراسے جمع کرنے کے سبب آخرت سے اعراض کرنے والے کوخطاب فرماتا ہے،۔۔۔۔۔۔اوراس کوبھی جوحلال،حرام اورمشکوک مال میں تمیزنہیں کرتا،۔۔۔۔۔۔اور سمجھتا ہے کہ حلال وہ ہے جوانسان کے ہاتھ لگ گیا اورحرام وہ ہے جس سے وہ محروم کردیا گیا۔چنانچہ،

اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے شخص کو مخاطب کرکے ارشادفرماتاہے:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیۡہَا وَہُمْ فِیۡہَا لَا یُبْخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
ترجمہ کنزالایمان:جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے یہ ہیں وہ جن کیلئے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے ۔(پ12، ھود:15،16)
Flag Counter