Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
27 - 82
کے ساتھ اس (یعنی مال) کو حاصل کرے اورٹھیک جگہ پرخرچ کرے تو(ثواب حاصل کرنے میں) بہت اچھامددگارہے ۔''اورجس نے ناحق طریقے سے مال کمایا تووہ (یعنی مال )اس کا معاون نہیں بلکہ اس کے لئے عبث اوربے کارشئے ہوگا۔نیزاس حدیث پاک میں مثال بیان ہوئی ہے اس کافرکے لئے جوکفرکوچھوڑنے سے غافل ہے،اوراُس گناہگار کے لئے جوتوبہ سے غافل ہے، اوراس شخص کے لئے جوتوبہ کی طرف جلدی کرتاہے، اوراس کے لئے جودنیا کوچھوڑکرآخرت میں رغبت رکھتاہے۔

    اورعقلمندتووہ ہے جوشرعی حدودکے اندررہ کرجائزذرائع سے دنیاسے فائدہ حاصل کرتا ہے اورپھرجائز جگہ اس کوخرچ کرتا ہے۔
اوپروالاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہے:
    حضرت سیدنا حکیم بن حِزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' میں نے رحمتِ عالمیان ،شہنشاہِ کون ومکان ،مالکِ دوجہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے مال کاسوال کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے عطافرمایا،میں نے دوبارہ سوال کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پھرعطافرمایا،میں نے تیسری بارسوال کیا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پھرمجھے عطا فرمایا اور ارشادفرمایا:''بیشک یہ مال سرسبزاورمیٹھاہے پس جس نے اسے اچھی نیت سے لیا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی اورجس نے دل کے حرص ولالچ سے حاصل کیا اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی اور وہ ایسا ہے کہ کھا کر بھی سیر نہیں ہوتا ،اور(آگاہ رہوکہ)اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھذاالمال.....الخ،الحدیث:۶۴۴۱،ص۵۴۱)
Flag Counter