یہاں حضور سیدعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سائل پر واضح فرمادیا کہ خیراگر شریعت کی حدود میں استعمال ہوتوخیرہی لاتی ہے ،اوراگر خیرکواس کے اہل تک پہنچانے میں بخل کیا جائے یا فضول خرچی میں ضائع کردیاجائے تو یہی شر بن جاتی ہے۔''
نیزیہاں پرحضورنبی پاک،صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ دنیا اپنے چاہنے والوں سے کیسالوک کرتی ہے پس دنیا اور اس کے اسباب کے حصول میں منہمک انسان اس چوپائے جیسا ہے جو چارے سے لذّت اٹھاتے ہوئے اس کے کھانے میں منہمک ہے اور اپنی گنجائش سے بڑھ کر کھا رہا ہے، اورایک ہی بارسارا نگل جانے کی عادت ترک نہیں کرتاحتی کہ اس کا پیٹ پھول جاتاہے اورہلاکت (یعنی موت)اس کی طرف تیزی سے بڑھتی ہے۔ اور یوں ہی وہ شخص جوحلال وحرام (ہرقسم کا)مال جمع کرتارہتا ہے ہلاکت سے نہیں بچ سکتا۔
اورجب انسان غفلت سے آگاہ ہوجائے توہروہ چیزجواس کے لئے نقصان دہ اورحرام ہے، اُس کے ازالہ کی کوشش کرے،پس یوں وہ محفوظ رہے گا جس طرح چوپایہ جگالی کرتاہے تو وہ کھانے کے آسانی سے نگلنے اور دوسری مرتبہ ہاضمے میں مدد دیتی ہے ، اور اس کے سبب چوپایہ تندرست رہتاہے ۔