حضرت سیدناابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ کونین ، دکھی دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''مجھے تم پرجس چیز کا زیادہ خوف ہے وہ اللہ تعالیٰ کا تمہارے لئے زمین کی برکات کونکالناہے۔''عرض کی گئی : ''زمین کی برکات کیاہیں؟'' ارشادفرمایا:''دنیا کی آسائشیں۔''ایک شخص نے عرض کی : ''کیا خیرکے ساتھ شربھی آتاہے ؟''تو سرکا رِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سکوت فرمایاحتی کہ ہم نے گمان کیاکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّمَ پروحی نازل ہو رہی ہے ،پھر سیدِ عالم ،نورِمجسَّم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی مبارک پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے ارشاد فرمایا:'' سوال پوچھنے والاکہاں ہے؟''اس شخص نے عرض کی:''میں حاضر ہوں ۔''حضرت سیدناابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ہم نے اس کے وہاں موجود ہونے پراس کی تعریف کی۔''حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''خیرکے ساتھ خیرہی آتی ہے ،بے شک یہ دنیاکامال سرسبز اور شیریں لگتاہے جس طرح فصلِ ربیع جوکچھ اُگاتی ہے وہ یاتو جانور کوپیٹ پُھلاکر مارڈالتا ہے یامرنے کے قریب کر دیتا ہے ۔مگر وہ جانور جو ہری ہری گھاس کھائے ، جب پیٹ بھرجائے تو دھوپ میں آجائے ،جگالی کرے اورگوبروپیشاب کرے پھرآکردوبارہ چرنے لگے ،یوں ہی یہ مال بھی شیریں ہے لیکن جو حق کے ساتھ اسے حاصل کرے اور ٹھیک جگہ پر خرچ کرے تو (ثواب حاصل کرنے میں) بہت اچھامددگار ہے اور جو ناحق مال لے تو وہ اس کی طرح ہے جو کھاتاہے مگر پیٹ نہیں بھرتا۔''