| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
اورمجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں یا(ارشاد فرمایا)زمین کی چابیاں عطاکی گئی ہیں۔اور اللہ عزوجل کی قسم !مجھے تم پر اس بات کاڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے ،بلکہ مجھے تم پراس بات کاخوف ہے کہ تم (حصولِ دنیا کے لئے) ایک دوسرے سے مقابلہ کروگے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب مایحذرمن زھرۃالدنیا،الحدیث:۶۴۲۶،ص۵۴۰)
(۔۔۔۔بقیہ حاشیہ )،مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہاہوں تاکہ تمہاری شفاعت، تمہاری نجات، تمہاری ہرطرح کارسازی (یعنی مدد)کروں تم میں سے جوبھی ایمان پرفوت ہوگاوہ میرے پاس میری حفاظت، میرے انتظام میں اس طرح آوے گاجیسے مسافراپنے گھرآتاہے ،بھرےگھرمیں۔(اشعۃاللمعات)مومن مرتے ہی حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس پہنچتاہے بلکہ بعض مومنوں کی جانکنی کے وقت خودحضورانور(صلی اللہ علیہ وسلم)انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری (علیہ رحمۃاللہ الباری)کاواقعہ ہوا،اوربہت مرنے والوں سے(نزاع کے وقت) سناگیاحضور(صلی اللہ علیہ وسلم)آگئے،خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کوبھی ''فرط'' فرمایاگیاہے مگروہ ''فرطِ ناقص'' ہیں۔حضورانور(صلی اللہ علیہ وسلم)''فرط کامل'' یعنی ہرطرح کے منتظم نیز''اَیْدِیْکُمْ'' میں خطاب ساری امت میں ہے نہ کہ صحابہ کرام (علیہم الرضوان)سے حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں۔
(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)
۳؎حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ الرحمن اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ'' اس کی تائیداس آیت سے ہے
''وَیَکُوْنُ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا''
بمعنی نگران گواہ ہے نہ کہ فقط گواہ ،ورنہ(لفظِ) عَلٰی نہ آتابلکہ(لفظِ) لام آتا،(لفظِ)شہادت کے ساتھ اگر(لفظِ) عَلٰی ہوتوخلاف گواہی مرادہوتی ہے،یعنی اے مسلمانوں میں تمہارے ایمان،اعمال ،قلبی حالات کاعلیم وخبیروحفیظ ونگران ہوں تم سب کے ایمان کی نبض پرمیراہاتھ ہے مجھے ہر شخص کے ایمان اوردرجہ ایمان کی ہروقت خبرہے ۔''
(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶۔۲۸۶)