| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
ارشادفرمایا:''نہیں! بلکہ تم تو کوڑے کچرے ہوجاؤ گے جیسے سیلاب کا کوڑا کچرا ہوتا ہے (مراداس سے آخری زمانے کے خراب اور نکمّے لوگ ہیں) ،دنیا سے محبت اورموت سے نفرت کی وجہ سے تمہارے دل کمزور پڑ جائیں گے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب جاتارہے گا۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل،الحدیث:۲۲۴۶۰،ص۳۲۷تغیراً)
دنیاکی محبت، جھگڑوں کاسبب ہے
حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک روز(گھرسے )باہرتشریف لے گئے اورشہداء احد پرنماز پڑھی ۱؎ جیسی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میت پرنمازِجنازہ پڑھتے تھے ۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم منبرشریف پر تشریف لے گئے اور ار شاد فرمایا:''میں تمہارے لئے فَرَط ۲؎ (یعنی پیش رو) ہوں اورتمہارانگران گواہ ہوں۳؎ اور خداعزوجل کی قسم !میں اس وقت بھی اپنے حوض(یعنی حوضِ کوثر)کو دیکھ رہا ہوں اور۱؎یہ نمازِجنازہ حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آٹھ سال کے بعدادافرمائی تھی جیساکہ مشکوۃ المصابیح، باب ھجرۃ الصحابۃ من مکۃ ووفاتہ، حدیث۵۹۵۸سے واضح ہے ،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ ''آٹھ سال بعدنمازِجنازہ پڑھناحضورانور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی خصوصیت ہے۔بعض روایات میں اس کی تصریح بھی ہے کہ یہ نمازِجنازہ تھی۔''
(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۸،ص۲۸۶)
۲؎حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ الرحمن ''لفظ ِفرط ''کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں: فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع ،فرط وہ شخص ہے جوکسی جماعت سے آگے منزل پرپہنچ کران کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کاانتظام کرے جس سے وہ جماعت آکرہرطرح آرام پائے(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پردیکھیں۔۔۔)