جب حضرت سیدناابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحرین سے (جزیہ کا)مال لے کر واپس لوٹے توانصارنے آپ کی آمدکی خبرسنی تو سب نے صبح کی نمازحضورنبی کریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ اداکی ،جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فارغ ہوئے توسارے سامنے آگئے،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشادفرمایا:''میرا خیال ہے کہ آپ لوگوں نے ابو عبیدہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی آمد کی خبر سن لی ہے کہ وہ کچھ مال لائے ہیں ۔'' انہوں نے عرض کی:'' یا رسولَ اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایساہی ہے۔''حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''خوشخبری سنا دو اور اُس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے گا،پس اللہ عزوجل کی قسم !مجھے تم پر فقر (غربت)کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلی قوموں پر پھیلائی گئی تھی پس تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو گے ،اوریہ تمہیں غفلت میں ڈال دے گی جس طرح اس نے پچھلی قوموں کوغافل کردیا۔''