Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
21 - 82
رکھاجاتا ہے(پھرآگے اسی حدیث پاک میں یہ بھی ہے) پھر فرشتے کوچارباتوں کا حکم دیاجاتاہے کہ اس کا رزق ، موت ،عمل اورخوش بخت یا بد بخت ہونا لکھ دے۔''
(صحیح البخاری،کتاب القدر،الحدیث:۶۵۹۴،ص۵۵۲ملتقتاً)
    ہمارے رب عزوجل نے بندوں کے امتحان اورانہیں آزمانے کے لئے جہنم کوشہوات نفسانی سے ڈھانپ دیاہے،۔۔۔۔۔۔پس خوش بخت وسعادت مندہے وہ شخص جودنیاسے قریب توہو،۔۔۔۔۔۔اسے صرف اپنے ہاتھ کی مٹھی میں رکھے لیکن اسے اپنے دل میں جگہ نہ دے ،۔۔۔۔۔۔اور دنیاکو ہاتھ میں رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ'' اس میں سے حلال کو لے ، حرام کو چھوڑدے اور شبہات سے بچتا رہے اور اس طرح وہ دنیا کو اپنے ہاتھ (یعنی قابو ) میں رکھ سکے گا،۔۔۔۔۔۔اوراگرایساہوکہ حلال کوحلال اور حرام کوحرام ہی سمجھے مگر شبہ سے نہ بچے تو وہ دنیا کی طرف توجہ دینے کی وجہ سے اس کے فتنے میں غرق ہوجائے گا۔
تم پردنیاپھیلادی جائے گی:
    امام بخاری علیہ رحمۃاللہ الباری روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر میں حضورنبی پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ شریک تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادفرماتے ہیں کہ اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لئے روانہ فرمایاکیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بحرین والوں سے جزیہ کے بدلے صلح فرمائی تھی اور حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا گورنر مقررفرمایا تھا۔
Flag Counter