Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
19 - 82
    حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت بنیادہے:''بوڑھے آدمی کا دل دوچیزوں کے معاملے میں ہمیشہ جوان رہتاہے (۱)لمبی امیدیں اور(۲)دنیا کی محبت۔
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب من بلغ ستین سنۃ....الخ،الحدیث:۶۴۲۰،ص۵۳۹)
     حضرت سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِمدینہ،قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ''جوں جوں ابن آدم کی عمر بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ دوچیزیں بھی بڑھتی رہتی ہیں (۱)مال کی محبت اور(۲) لمبی عمر کی خواہش ۔''
(المرجع السابق،الحدیث:۶۳۲۱)
قرآن پاک میں لمبی امیدوں کی مذمت :
    اللہ عزوجل نے لمبی امیدوں کی مذمت کے بارے میں ارشاد فرمایا :
ذَرْہُمْ یَاۡکُلُوۡا وَیَتَمَتَّعُوۡا وَیُلْہِہِمُ الۡاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۳﴾
ترجمہ کنزالایمان:انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہو۔(پ14،الحجر:3)
Flag Counter