| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
لیکن تندرست نہیں رہتا پس جب تندرست اور فارغ ہو اور طاعت کی بجائے سستی غالب آجائے تو ایساشخص خسارے میں ہے ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں ایسی تجارت موجودہے جس کا نفع آخرت میں ملے گا۔
وہ شخص قابلِ رشک ہے جو اپنی صحت اور فراغت کو خداوند قُدُّوْس عزوجل کی بندگی واطاعت میں گزارے تو جس نے اپنی صحت وفراغت کو اللہ عزوجل کی نافرمانی میں ضائع کردیاوہ دھوکے میں رہا کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آگھیرتی ہے۔اوراگر ایسا نہ بھی ہوتوپھر بڑھاپا ہی کافی ہے ۔جیساکہ کسی شاعرنے کہاہے:یَسُرُّالْفَتَی طولُ السَّلَامَۃِ وَالْبَقَا فَکَیْفَ تَرَی طُوْلَ السَّلَامَۃِیَفْعَلُ یَرُدُّالْفَتَی بَعْدَاِعْتِدَالٍ وَصِحَۃٍ یَنُوْء ُ اِذَارَامَ الْقِیَامَ وَیُحْمَلُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔لمبی عمراورطویل سلامتی (صحت) نوجوان کوخوش کرتی ہے ،(اے انسان) توکیسے سمجھتاہے کہ طویل سلامتی ایساکرتی رہے گی؟ (۲)۔۔۔۔۔۔وہ تونوجوان کوصحت اورمعتدل زندگی کے بعدبڑھاپے کی طرف لوٹادے گی کہ جب کھڑاہوناچاہے گاتومشقت سے اٹھے گااور(کبھی)بوجھ کی مثل اٹھایا جائے گا۔
صحت اورفرصت کافریب:
آہ! بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے کی وجہ سے نعمتِ صحت اورفرصت کے فریب میں آچکے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اکثر لوگ برائی کا حکم دینے والے نفس کی پیروی کرتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔احکام شریعت پرعمل کرنے اور