Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
16 - 82
اللہ عزّوجل ارشادفرماتا ہے :
فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیاگیا وہ مراد کو پہنچا۔(پ4،اٰل عمران :185)

    اے انسان !نیکی کے کاموں میں کوشش کر اور موت سے پہلے پہلے اپنی عمر سے فائدہ اٹھا،۔۔۔۔۔۔ دنیاایک محدود وقت ہے اس میں جتنے بھلائی کے کام تو کرنا چاہے کرسکتاہے، ۔۔۔۔۔۔ اور ایک وقت وہ ہے جوآنے والاہے جس میں تجھے نہیں معلوم کہ قادر مطلق عزوجل تیرے ساتھ کیامعاملہ فرمانے والا ہے...؟جو لمحہ گزر گیا تیرے اچھے یا برے عمل کو ساتھ لے گیااب وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا۔اے انسان!اپنی فراغت سے موقع اٹھا اور صحت سے فائدہ حاصل کر (یعنی زندگی کے ایسے لمحات کو غنیمت جان اور کچھ نیک اعمال کرلے)۔چنانچہ،

    حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : ''دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اکثر لوگ دھوکے میں ہیں (ایک)صحت اور (دوسری)فراغت۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب الصحۃوالفراغ......الخ،الحدیث:۶۴۱۲،ص۵۳۹)
دنیاآخرت کی کھیتی ہے:
    امام ابن جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشادفرماتے ہیں کہ انسان کبھی تندرست ہوتا ہے مگر کسبِ معاش میں مشغولیت کی بناء پرفارغ نہیں ہوتا اور کبھی خوشحال ہوتا ہے
Flag Counter