Brailvi Books

اسلحے کا سوداگر
21 - 32
کی تھیں میں وہ بھی بھلا دیا گیا تھا، الغرض میرے چاروں جانب گناہوں کا  اندھیرا پھیلا ہوا تھا اورمیں غفلت کی نیند سویاہواتھا۔ میری عصیاں بھری زندگی میں خوشگوار تبدیلی آنا شروع ہوگئی،جس کا سبب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی بنے کہ جن کی مسلسل انفرادی کوشش کی بدولت میں آہستہ آہستہ مدنی ماحول کے قریب آنے لگا اورمیں نے نمازوں کی پابندی کرنا شروع کردی پھرکچھ دنوں بعد رمضان المبارک کا مہینہ اپنے دامن میں بے پناہ برکتیں اور رحمتیں لئے تشریف لایا اور میری سوئی قسمت جگا گیا ۔ہوا کچھ اس طرح کہ میں اس مقدّس مہینے میں اعتکاف کی سعاد ت پانے کے لیے باب المدینہ کراچی حاضر ہوگیااور دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اعتکاف میں شریک ہوگیا جہاں میرے شب وروز عاشقانِ رسول کی با بَرَکت صحبت کی بدولت عبادت الٰہی میں بسر ہوئے اور میں گناہوں کی آلودگیوں سے بھی محفوظ رہا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس اعتکاف کی بَرَکت سے میں گناہوں بھری راہ کو چھوڑکر نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن ہوگیا،میں نے ہاتھوں ہاتھ سنّت کے مطابق سفیدمدنی لباس سے بدن کو آراستہ کرلیا۔مزید میری سعادتوں کی معراج اور کرم بالائے کرم یہ کہ دوران اعتکاف مجھے ایک روز خواب میں مدینے کے تاجدار، دو عالم   کے مالک و مختارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسَلَّمکے