26رمضان المبارک کو ولادتِ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُُُمُ الْعَالِیَہ کے پُرمسرّت موقع پر سرپر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج بھی سجا لیا۔اس کے علاوہ اعتکا ف کی یہ بَرَکت بھی ظاہر ہوئی کہ میری چار بیٹیاں تھی مگر میر ا کوئی بیٹا نہیں تھا اجتماعی اعتکا ف میں اولاد نرینہ کے لیے دعا ئیں مانگیں اور مدنی قافلے میں سفربھی کیا ان کی بَرَکت سے اللہ ربّ العزت نے میرے گلشن میں مدنی منیّ کی صورت میں ایک خوبصورت پھول کھلا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تادم تحریر میرے گھر کے تمام افراد سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں بیعت ہیں اور میں تنظیمی طور پر اپنے علاقے میں ذیلی حلقہ نگران کی حیثیت سے مدنی کا م کر رہا ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{ 8}روضۂ انور کا دیدار
مرکزالاولیائ(لاہور، پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں ایک فیشن کا متوالا،گانے باجوں کا رسیا اورگناہوں کی دنیا میں مست رہنے والا نوجوان تھا۔ میں نے ناچ گانے کو ہی اپنی زندگی کا مقصدسمجھ لیا تھا ۔دنیا کی محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیاتھا گناہوں کی نحوست اس قدر بڑھ چکی تھی کہ بچپن میں جو قراٰن پاک کی چندسورتیں یاد