اللہ عزوجل نے ہمارے بجائے اسے اپنا دوست بنالیا ۔'' انہوں نے پوچھاوہ کیسے؟'' تومیں نے پوراقصہ بیان کردیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے چیخ ماری اورزمین پرتشریف لے آئے۔پھر فرمایا: '' اے ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! افسوس ہے تم پر،مجھے ان کے پاس لے چلو ۔''میں نے کہا:'' ابھی وقت بہت کم ہے، میں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتاہوں ۔''
پھر جب اگلادن آیا تو میں نے فجر کی نماز پڑھی اور اس حبشی غلام کے گھر کی طرف چل دیا ۔میں نے گھر کے دروازے پر ایک بوڑھے کو دیکھا جو چادر بچھا کر بیٹھا ہواتھا ۔جب اس نے مجھے دیکھا تو پہچان کر کہنے لگا :'' مرحبا! اے ابوعبدالرحمن !خوش آمدید، فرمائیے کیسے تشریف لائے ؟ ''میں نے کہا :''مجھے ایک غلام کی حاجت ہے۔'' اس نے کہا :''ہاں! میرے پاس بہت سے غلام ہیں ،آپ ان میں سے جسے چاہیں پسند فرمالیں۔'' پھراس نے آواز دی :'' اے غلام !''جواباً ایک چاک وچوبند غلام باہر نکلاتو اس بوڑھے نے مجھے بتایا کہ'' یہ غلام بہت نیک سیرت ہے، آپ کے لئے بہت اچھا رہے گا۔'' تو میں نے کہا :'' نہیں ،مجھے یہ نہیں چاہے۔'' وہ بوڑھا شخص ایک کے بعد دوسرا غلام بلاتا رہا اور میں انکار کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس نے میرے مطلوبہ غلام کو بلایا تو اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔بوڑھے نے پوچھا : ''کیا یہ غلام آپ کو پسند ہے ؟'' میں نےکہا: ''ہاں۔ ''مگر وہ کہنے لگا:'' میں اس غلام کو نہیں بیچ سکتا۔'' میں نے پوچھا :''وہ کیو ں؟'' جواب دیا:'' اس کا میرے گھر میں رہنا باعث ِ برکت ہے کیونکہ جب سے یہ اس گھر میں آیاہے مجھے کوئی مصیبت نہیں پہنچی۔'' میں نے پوچھا :''اس کا کھاناکہاں سے آتا ہے؟'' اس نے کہا کہ'' یہ کھجوری رسیاں بُن کر