کچھ رقم کمالیتا ہے، اگر رسیاں بِک جائیں تو فبھا ورنہ وہ دن یونہی گزار لیتاہے اور میرے غلاموں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ طویل ترین راتوں میں بھی بالکل نہیں سوتا ، ان سے زیادہ میل جول نہیں رکھتا اور اپنے نفس پر کڑی نظر رکھتا ہے ، میرے دل میں اس کے لئے بڑی محبت ہے ۔''
یہ سن کر میں نے اس بوڑھے سے کہا :''میں اپنی مراد پوری ہوئے بغیر (حضرتِ سیِّدُنا) فضیل بن عیاض اور(حضرتِ سیِّدُنا) سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے پاس چلتا ہوں۔'' (واپسی پر)میں دوبارہ اس کے پاس گیااور اس غلام کے لئے منت سماجت کی تواس نے کہا کہ'' آپ کا میرے پاس چل کر آنا ہی بڑی بات ہے آپ اسے جتنی قیمت میں چاہیں لے جائیں ۔''
بہرحال میں نے وہ غلام خرید لیا اور اسے لے کر حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر کی طرف چل پڑا۔ تھوڑی دُور چلنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا: ''اے آقا ! میں نے کہا:'' لبیک ! (یعنی میں حاضر ہوں۔)'' تو اس نے کہا :'' لبیک نہ کہے کیونکہ غلام ''لبیک'' کہنے کا آقا سے زیادہ مستحق ہے۔'' میں نے کہا :''میرے دوست ! تمہیں کس چیز کی حاجت ہے ؟''اس نے کہا:'' میں کمزور بد ن والاہوں، آپ کی کوئی خدمت نہیں کرپاؤں گا،آپ میری جگہ دوسرا غلام خرید لیتے، میرے مالک نے آپ کو مجھ سے طاقتو ر غلام بھی دِکھایا تھا۔'' تو میں نے جواب دیا :''میں تجھ سے خدمت تھوڑی لوں گا؟ میں نے تو تجھے اس لئے خرید اہے کہ تجھے اپنے بیٹوں کی طر ح رکھوں ، تیری شادی کراؤں اور خود تیری خدمت کروں۔''یہ سن کر وہ رونے لگا تو میں نے اس سے پوچھا:''تجھے کس چیز نے رُلایا ؟'' تو اس نے جواب دیا: ''شایدآپ یہ