Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
98 - 303
    میرے بھائی ! دنیا سے بچ کے رہنا کیونکہ دنیا ایک تاریک راہ گزرہے اور اس میں صرف بقدرِ ضرورت غذا پر قناعت کراور یاد رکھ کہ ایک دن تجھے یہ دنیا چھوڑ جاناہے۔
حبشی غلام:
    حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''جب میں مکہ مکرمہ حاضر ہو اتو میں نے دیکھا کہ لوگ خشک سالی میں مبتلاء ہیں اور مسجد حرام میں بارش کے لئے دعا مانگ رہے ہیں ۔میں باب ِبنی شیبہ کی طرف موجودتھا کہ ایک حبشی غلام آیا، اس نے کھدر کے دو کپڑے پہن رکھے تھے۔ ایک کپڑے کا تہبند باندھ رکھا تھاجبکہ دوسرا کپڑا کندھوں پر اوڑھ رکھاتھا ۔ وہ وہاں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا ۔ میں نے اسے اس طر ح دعا مانگتے ہوئے سنا :''یا الٰہی عزوجل ! گناہوں کی کثرت اوربرے عیبوں نے چہروں کو سیاہ کردیا، تونے مخلوق کی عبرت کے لئے ہم سے باران ِرحمت کوروک لیا،تو اے حلیم عزوجل! میں تجھ سے سوال کرتاہوں ، اے وہ پاک ذات جس سے اس کے بندے بھلائی ہی پاتے ہیں!انہیں ابھی فوراً ہی سیراب کردے ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' ابھی اس حبشی غلام نے اتنا ہی کہا تھا کہ آسمان پر بادل چھا گئے اوردیکھتے ہی دیکھتے برساتِ رحمت برسنے لگی۔پھر وہ حبشی غلام اپنی جگہ پر بیٹھ کرتسبیح پڑھنے لگا۔میں یہ دیکھ کر رونے لگا۔جب وہ وہاں سے جانے لگا تو میں اس کا گھر دیکھنے کے لئے اس کے پیچھے چل دیا۔ پھر جب میں حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا توانہوں نے مجھ سے پوچھا :'' آپ کیوں افسردہ ہیں؟ ''میں نے کہا ''کوئی دوسرا ہم سے سبقت لے گیا اور
Flag Counter