Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
95 - 303
 عالَم کتنے افسوس کاہوگا اگر جہنم میں میرے جسم کو کاٹاگیا، اے ماں! میں جیسا کہوں آپ اسی طرح کیجئے۔'' آپ کی ماں نے کہا:'' بیٹے ! میری جان تجھ پرقربان تو کیا چاہتا ہے؟'' بیٹے نے کہا:'' میرا رخسار مٹی پر رکھ دیجئے اور اسے اپنے پاؤں سے روندئيے تاکہ میں دنیا ہی میں ذلت کا مزاچکھ لوں اوراپنے آقا ومولا عزوجل کی بارگاہ سے لذت پاؤں تاکہ وہ مجھ پررحم فرما کر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے مجھے نجات دیدے۔''

    ان کی والدہ کہتی ہیں کہ'' میں اٹھی اور اپنے بیٹے کے رخسار کو مٹی سے لتھڑ دیا ۔'' اس وقت اس کی آنکھوں سے پر نا لے کی طر ح آنسو بہہ رہے تھے پھر میں نے اس کے رخسار کواپنے قدموں سے روندا تو وہ کمزور آواز سے کہنے لگا: ''گنہگار اور نافرمان کی سزا یہی ہے، خطاکار وبد کار کا بدلایہی ہے، اپنے مولیٰ کے در پر کھڑا نہ ہونے والے کی یہی جزا ء ہے، اللہ ربُّ العزت عزوجل سے نہ ڈرنے والے کی یہی جزاء ہے۔'' پھر وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے کہنے لگا :
'' لَبَّیْکَ ! لَبَّیْکَ ! لَااِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
 ترجمہ:میں حاضر ہوں ! میں حاضرہوں ! کوئی معبود نہیں تیرے سوا ، پاکی ہے تجھ کو،بے شک مجھ سے بے جا ہوا۔'' پھراس کی روح قفس ِ عنصری سے پرواز کرگئی۔

    ان کی والدہ مزید فرماتی ہيں کہ میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس کا چہر ہ بادلوں میں گھرے ہوئے چاند کی طر ح دمک رہا تھا میں نے پوچھا : ''بیٹا! تیرے آقا عزوجل نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟'' تو اس نے جواب دیا :'' اس نے میرے
Flag Counter