عالَم کتنے افسوس کاہوگا اگر جہنم میں میرے جسم کو کاٹاگیا، اے ماں! میں جیسا کہوں آپ اسی طرح کیجئے۔'' آپ کی ماں نے کہا:'' بیٹے ! میری جان تجھ پرقربان تو کیا چاہتا ہے؟'' بیٹے نے کہا:'' میرا رخسار مٹی پر رکھ دیجئے اور اسے اپنے پاؤں سے روندئيے تاکہ میں دنیا ہی میں ذلت کا مزاچکھ لوں اوراپنے آقا ومولا عزوجل کی بارگاہ سے لذت پاؤں تاکہ وہ مجھ پررحم فرما کر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے مجھے نجات دیدے۔''
ان کی والدہ کہتی ہیں کہ'' میں اٹھی اور اپنے بیٹے کے رخسار کو مٹی سے لتھڑ دیا ۔'' اس وقت اس کی آنکھوں سے پر نا لے کی طر ح آنسو بہہ رہے تھے پھر میں نے اس کے رخسار کواپنے قدموں سے روندا تو وہ کمزور آواز سے کہنے لگا: ''گنہگار اور نافرمان کی سزا یہی ہے، خطاکار وبد کار کا بدلایہی ہے، اپنے مولیٰ کے در پر کھڑا نہ ہونے والے کی یہی جزا ء ہے، اللہ ربُّ العزت عزوجل سے نہ ڈرنے والے کی یہی جزاء ہے۔'' پھر وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے کہنے لگا :