ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہو ں نے عرض کی:''یاالٰہی عزوجل!جب میں صحت مندہوتاہو ں تیری نافرمانی کرتاہوں اور جب کمزور ہوتا ہوں تو تیری اطاعت کرنے لگتاہوں،طاقت کے زعم میں تجھے ناراض کر بیٹھتاہوں کمزوری کے عالم میں تیر ی فرمانبرداری کرنے لگتا ہوں ،ہائے میری عقل کو کیا ہوگیا کاش ! میں جان سکوں کہ تو میری ندامت کوقبول کرلے گا یامجھے میرے جرم کی وجہ سے دُھتکار دے گا۔''
یہ کہنے کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ غش کھا کر زمین پرتشریف لے آئے جس سے آپ کی پیشانی زخمی ہوگئی ۔ان کی والدہ ان کے پاس آئیں ، ان کے ماتھے پر بوسہ دیا اور روتے ہوئے ان کی پیشانی صاف کی پھر کہنے لگیں:''اے دنیا میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور آخرت میں میرے دل کے چین، اپنی رونے والی بوڑھی ماں سے کلام کر اور شکستہ دل ماں کی بات کا جواب دے ۔'' جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ افاقہ ہوا توآپ نے اپنے دل کو تھام لیا اورآپ کی روح جسم میں بے چین ہونے لگی اور آنسو رخساروں سے ہوتے ہوئے اِن کی داڑھی کو نم کرگئے ۔ انہوں نے اپنی ماں سے کہا : ''اے ماں! یہ وہی ہولناک دن ہے جس سے آپ مجھے ڈرایا کرتی تھیں ، ہائے ! ضائع ہوجانے والے دنوں پر افسو س !اور ان لمبے دنوں پر حسرت !جن میں میں کوئی بلندی نہ پاسکا ، اے ماں !میں ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھے طویل مدت کے لئے جہنم میں نہ ڈال دیا جائے، ہائے وہ وقت کتنا غمناک ہوگا اگر مجھے سر کے بل جہنم میں پھینک دیا گیا اوروہ