Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
89 - 303
     پھر ان قافلے والوں کو حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت سردی کی رات میں تنہا چھوڑنے پر سخت ندامت وشرمند گی ہو ئی ۔پھر ان لوگو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے لئے اٹھایا اور نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے ایک ہموار جگہ پر رکھا۔ جب ان لوگوں نے تکبیر کہی تو آسمان سے زمین تک مشرق سے مغرب تک تکبیر کہنے کی آواز یں سنیں تو ان کے کلیجے دہل گئے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ اپنے سروں سے سنی جانے والی آوازوں سے مرعوب ہونے اور گھبراہٹ کی شدت کی وجہ سے یہ نہ سمجھ پائے کہ نماز جنازہ کس طر ح ادا کی جائے ۔پھر جب انہیں قبر کی طرف لے جانے کا ارادہ کیاتو اٹھاتے وقت انہیں یوں محسوس ہوا کہ حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسد اقدس کسی اور مخلوق نے تھام رکھاہے اور انہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوزن تک محسوس نہ ہوا۔بہرحال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے لئے قبر کی طرف لائے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم اقد س کو قبر میں دفن کردیا۔

    اس کے بعد قافلے والے حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حیران وپریشان ہوتے ہوئے سفر پر روانہ ہوگئے۔ جب وہ اپناسفر پورا کرکے لوٹے تو کوفہ کی مسجد میں آئے اور لوگو ں کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ سنا یا اور وہاں حلیہ بیان کیاتو حلیہ بیان کرنے پر لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہچان لیا ۔ مسجد میں رونے کی آوازیں بلند ہوئیں اور اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد آپ کی کرامات ظاہر نہ ہوتیں تو حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کی خبرکسی کو نہ ہوتی اور نہ ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پُر انوار کا پتاچلتا کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں سے پوشیدگی اور کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)