Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
88 - 303
دنیا میں اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو نہ سونگھی تھی ۔اس صورت حال میں ان کے خوف میں مزید اضافہ ہو گیا اوروہ رعب وگھبراہٹ میں مبتلا ہو گئے۔ جب وہ قبر سے نکلنے والی مٹی کو دیکھتے تو اسے مٹی کی طرح پاتے اور جب اسے سونگھتے تو مشک کی خوشبو پاتے۔ پھر ان لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک خیمہ نصب کیااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسد اقدس کو اس میں منتقل کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کفن کے معاملے میں بحث کرنے لگے ایک شخص نے کہا کہ'' انہیں کفن میں دوں گا۔''دوسرے نے کہا:''میں دوں گا ۔'' پھر جب ان سب کی رائے اس بات پر متفق ہو ئی ہر شخص کفن کے لئے ایک ایک کپڑا دے پھران لوگوں نے کاغذ اور قلم پکڑا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ مبارک اور صفات مبارکہ لکھنے لگے اور کہنے لگے:'' ان شاء اللہ عزوجل جب ہم مدینے پہنچیں گے توشاید وہاں ہمیں ان کاکوئی جاننے والامل جائے۔''

     پھر ان لوگو ں نے اس پرچے کو اپنے سامان میں رکھ لیا۔جب انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دے دیا اور کفن پہنا نے کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لباس کو اُتارناچاہا تو آپ کو جنّتی کفن میں لپٹاہواپایا۔ دیکھنے والوں نے کبھی ایسا کفن نہ دیکھا تھا ۔اس کفن پر مشک وعنبر لگا ہوا تھا جس کی خوشبو نے فضاکومعطر کر دیاتھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جبین اطہر اور مبارک قدموں پر مشک کی مہ ک لگی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے : '' گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوّت رب عزوجل ہی دیتاہے کہ رب عزوجل نے انہیں کفن پہنا دیا اوربندوں کے کفن سے بے نیاز کردیا، ہم اللہ عزوجل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس برگزیدہ اور مقبول شخص کے وسیلہ سے ہمیں جنت عطا فرمائے گا اور ہم پر رحم فرمائے گا۔''