کرکے اپنے آقا کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اپنے عمل پر نادم تھا اور ہمیں امید ہے کہ اللہ عزوجل اس کے ذریعے ہمیں نفع پہنچا ئے گا کیونکہ اسکی تو بہ قبول ہوچکی ہے اوراگرہم اسے دفن کئے بغیر چل پڑے تو کہیں ہم سے اس کے بارے میں سوال نہ کیا جائے، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس کے لئے قبر کھود نے اور اسے اس قبر میں دفن کرنے تک صبر کرو ۔'' تو لوگوں نے کہا : ''یہ ایسی جگہ ہے جہا ں پانی موجود نہیں ہے۔''
ایک شخص نے کہا:''کسی جاننے والے سے پوچھ لو۔'' چنانچہ لوگو ں نے ایک شخص سے پوچھا تواس نے بتایا کہ'' پانی یہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ملے گا تم میرے ساتھ کسی آدمی کو بھیج دو میں تمہیں پانی لادوں گا۔'' اس شخص نے ڈول لیا اور پانی کی طرف چل دیا جب وہ قافلے سے نکلا تو اچانک سامنے پانی کی ایک نہر نظر آئی اس نے کہا: ''بڑا عجیب معاملہ ہے میں نے پہلے کبھی اس نہر کو نہیں دیکھا یہ تو وہ جگہ ہے جہاں پانی ملتاہی نہیں اور نہ ہی کسی قریبی جگہ میں ہوتاہے۔'' بہرحال وہ شخص قافلے کی طرف لوٹ آیا اور قافلے والوں سے کہنے لگا:'' تمہاری مشقت ٹل گئی لکڑیا ں جمع کرو۔'' تو انہوں نے پانی گرم کرنے کے لئے لکڑیاں جمع کردیں۔ پھر جب پانی لینے کے لئے نہر پرآئے تو پانی کو کھولتا ہواپایا، تو اس کے تعجب میں مزیداضافہ ہو ا۔یہ سب کچھ دیکھ کر شرکائے قافلہ اس شخص یعنی حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گھبرا گئے اور کہنے لگے:''بے شک یہ شخص بڑی عظمت والا ہے۔''
پھر ان لوگو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے قبر کھودنا شروع کی تو مٹی کو جھاگ سے زیادہ نرم پایا او رزمین سے خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں ۔قافلے والوں نے