Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
86 - 303
    دراصل حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکار ابدِ قرار، شفیعِ روزِ شمار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ انور کی زیارت کیلئے قافلے میں شامل ہوئے تھے ۔بہر حال، اسی دن قافلہ چل پڑا اور تیزی سے سفر کرنے لگا۔ رات کو جب اس قافلے نے ایک پتھریلی جگہ پرپڑاؤ کیا ،وہ رات انتہائی سرد اور با ر ش والی تھی۔ وہ بزرگ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' قافلے والو ں میں سے ہر شخص نے اپنے کجاوے اور خیمے میں پناہ لی، جبکہ سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس نہ توکجاوہ تھا ،نہ خیمہ اورنہ ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی سے کچھ مانگا۔'' کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ دنیوی امور میں سے کوئی چیز مخلوق سے طلب کریں بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اپنی حاجتیں اللہ ربُّ العزت عزوجل سے مانگا کرتے تھے ۔اس رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت سردی لگی یہا ں تک کہ سردی کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اعضا ئے مبارکہ کانپنے لگے ۔ جب سردی زیادہ غالب آگئی تو اس عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زیادہ سردی لگنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔''

    جب قافلے والے بیدار ہوئے اورکُوچ کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکار ا : '' اے شخص اٹھو، لوگ کو چ کر رہے ہیں ۔''مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا تو ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب آیا ۔ جب اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھنجوڑا تو دیکھا کہ آپ کی روح قفس ِ عنصری سے پرواز کرچکی ہے۔اس شخص نے قافلے والوں کو پکار کر کہا: ''اے قافلے والو! اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام انتقال کرگیا ہے اوراسے دفن کئے بغیر سفر کرنا مناسب نہیں ۔''قافلے والوں نے کہا:''اس کے معاملے (یعنی آقا سے بھاگنے ) کا کیا ہوگا؟''قافلے میں موجود ایک نیک شخص نے کہا :''یہ غلام توبہ