شخص بھی ہمارے ساتھ چل پڑا۔اس کا گندمی رنگ کثرتِ عبادت کی وجہ سے پیلا پڑچُکا تھا ۔ اس نے مختلف چیتھڑوں سے بنا ہوا پرانا لباس پہن رکھا تھا۔اسکے ہاتھ میں عصا تھا اور ایک تھیلی تھی جس میں تھوڑا ساتوشہ تھا۔دراصل وہ عابد وزاہد،امام العا شقین حضرت سیدنااویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جب قافلے والوں نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو پہچان نہ پائے اور ان سے کہا :'' ہمارا گمان ہے کہ تم ایک غلام ہو۔''حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' ہاں میں ایک غلام ہوں۔'' لوگوں نے کہا :''ہمارا گمان ہے کہ تم ایک بُرے غلام ہو اور اپنے آقا سے بھاگ کر آئے ہو ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' ہاں ایسا ہی ہے ۔''لوگو ں نے کہا :''جب تم اپنے آقا کو چھوڑکر بھاگے تو اپنے آپ کو کیسا پایا اور تمہاری یہ کیاحالت ہے اگر تم اپنے آقا کے پاس رہتے تمہاری یہ حالت ہر گز نہ ہوتی ا ور بے شک تم بہت برے اور قصوروار غلام ہو۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا:'' بے شک اللہ عزوجل کی قسم! میں ایک گنہگار غلام ہوں ،میرا آقا بہت ہی اچھا ہے اور قصور میراہی ہے اگر میں اسکی اطاعت کرتا اور اسکی رضا چاہتا تو میری یہ حالت ہرگز نہ ہوتی۔''
یہ کہہ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور اتنا روئے کہ قریب تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح پرواز کر جاتی ۔لوگو ں کوا ن پر بہت تر س آیا اور انہوں نے آقا سے مراد دنیوی آقا لیا جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آقا سے مراد اللہ عزوجل کو لیاتھا ۔ قافلے والوں میں سے ایک شخص نے کہا :''ڈرو مت !میں تمہارے لئے تمہارے آقا سے اَمان لے لوں گا ، تم اس کی طرف لوٹ جاؤ اورتوبہ کر لو۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' میں اس کی طرف لو ٹتا ہوں اور ا س کے انعامات میں رغبت رکھتا ہوں۔''