Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
84 - 303
خَزَائِنُ جُوْدِکَ لَا تَنْقَضِیْ			تَعُمُّ الْجَوَادَ بِھَا وَالْبَخِیْلَا
ترجمہ:(۱)مجھے اپنے رب جلیل عزوجل سے مناجات کرنے دوجبکہ رات نے مجھ پرپردے (اندھیرے )ڈال دئیے ہیں۔

    (۲)یاالٰہی عزوجل !میں تواضع کرنے والے دل سے تیری طر ف دیکھ رہاہوں تاکہ اس کے ذریعے قبولیت کی اُمّیدکروں۔

    (۳)سب خوبیاں،بزرگی اور کبریائی تیرے ہی لئے ہيں اورتُوایسا معبود ہے جو کبھی فنانہیں ہوگا ۔

    (۴)تُوہی وہ معبود ہے جوہمیشہ(ہروقت) حمید،کریم ،عظیم اورجلیل ہے ۔

    (۵)تُو ہی لوگوں کو مارتاہے اور (بروزِقیامت)ہڈیوں کو زندہ فرمائے گا اورساری مخلوق کوگروہ درگروہ اٹھائے گا ۔

    (۶)تُوعظیم جلال والا،کریم افعال والا، بڑی عطاوالااورہرسوال کوپوراکرنے والا ہے۔

    (۷)تُودلوں میں محبت ڈالتا ، گناہوں کومٹاتا،عیبوں کو چھپاتا،اورجہالتوں کودورفرماتا ہے ۔

    (۸)اورتُوبڑا انعام عطافرمانے والا، خوبی کا مالک بنانے والااو ران (انعام یافتہ بندوں ) سے چھوٹی سی نیکی بھی قبول فرمالیتا ہے۔

    (۹)تیری عنایت کے خزانے ختم نہیں ہوتے ،توسخی و بخیل سب کوان (خزانوں)سے نوازتاہے ۔
حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال :
    ایک عارف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم عراق سے مکہ مکرمہ اورمصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شہرمدینہ منورہ
(زَادَھُمَااللہُ شَرْفًاوَّتَعْظِیْمًا)
کے ارادے سے نکلے ۔ ہمارے قافلے میں بہت سے لوگ تھے ۔ جیسے ہی ہم عراق سے نکلے تو ایک عراقی
Flag Counter