Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
82 - 303
بدنگاہی کا وبال:
    حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ السلام فرمایا کرتے تھے کہ'' بدنگا ہی دل میں شہوت کا بیج بو دیتی ہے۔''

    حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' جس نے اپنی آنکھ کو آزاد کر دیا اس کے رنج بڑھ گئے ۔''

    اورحضرت سیدنا ابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
وَمَنْ کَانَ یُؤْتٰی مِنْ عَدُوٍّ وَّحَاسِدٍ		فَاِنِّیْ مِنْ عَیْنَیَّ اُوْتٰی وَمِنْ قَلْبِیْ
یعنی :اورجونقصان کسی دشمن اور حاسد سے پہنچتا ہے مجھے وہی نقصان اپنی آنکھ اور دل سے ہوتا ہے۔
بدنگاہی کی سزا:
     حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ'' ایک شخص نبی مُکَرَّم، نورِ مجَسّمْ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا خون بہہ رہاتھا تو سرورِکونین ،دکھی دلوں کے چین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے استفسار فرمایا :'' تجھے کیا ہوا ؟'' اس نے عرض کی:'' میرے پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اس کی طرف دیکھا اور میری نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کرتی رہیں کہ اچانک میرے سامنے ایک دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اورمیرایہ حال کردیا جسے آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔''تو نبئ مُکَرَّم،نورِ مُجسّمْ،شفیع معظم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'' اللہ عزوجل جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی
Flag Counter