| آنسوؤں کا دریا |
پیارے اسلامی بھائیو!
یہ دنیا زہرِ قاتل ہے مگر لوگ اس کی ہلاکتوں سے بے خبر ہیں ،۔۔۔۔۔۔کتنی نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں بڑی پیاری لگتی ہیں مگر بعد میں ان کا تیکھا پن سہا نہیں جاتا،۔۔۔۔۔۔ اے ابن آدم! تیرادل بہت کمزور ہے اور تیری رائے حقیقت میں ناقص ہے،تیری آنکھ آزاد ہے اور تیری زبان گناہوں سے آلودہ ہے، ۔۔۔۔۔۔تیرا جسم گناہ کر کرکے تھک جاتاہے،۔۔۔۔۔۔ کتنی نگاہیں ایسی ہیں جنہیں معمولی سمجھا جاتاہے مگر ان سے قدم پھسل جاتاہے۔
چند اشعارعَاتَبْتُ قَلْبِیْ لَمَّا رَاَیْتُ جِسْمِیْ نَحِیْلًا فَلَامَ قَلْبِیْ طَرْفِیْ وَقَالَ کُنْتَ ا لرَّسُوْلَا فَقَالَ طَرْفِیْ لِقَلْبِیْ بَلْ کُنْتَ اَنْتَ الدَّلِیلَا فَقُلْتُ کُفَّاجَمِیْعًا تَرَکْتُمَانِیْ قَتِیْلًا
ترجمہ:(۱) جب میں نے اپنے جسم کے دبلاپتلاہونے پرغورکیاتو اپنے دل کوملامت کرنے لگا۔
(۲) تومیرے دل نے میری آنکھ کو ملامت کی اور کہا کہ'' تو ہی پیغام دیتی ہے ۔''
(۳)تومیری آنکھ نے میرے دل کوجواب دیا'' رہنمائی توتُو ہی کرتاہے ۔''
(۴)تومیں نے (ان دونوں سے)کہا:''تم دونوں ہی (اپنی برائیوں سے) رُک جاؤ، تم دونوں نے مجھے ہلاک کر ڈالا ہے ۔''