Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
79 - 303
دیا ۔''تو میں نے اس سے کہا :'' اے خاتون ! کیا تو اپنے عمل پر یقین رکھتی ہے؟ '' تو عورت نے جواب دیا:'' جس کی محبت اور شوق نے مجھے خوشحال کررکھا ہے تیرا کیاخیال ہے کہ وہ مجھے عذاب میں مبتلا کریگا حالانکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' اسی دوران میرے اہل خانہ میں سے ایک بچہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیااور اپنے سینے سے چمٹا کر چومنے لگا ۔'' اس خاتون نے مجھ سے پوچھا:'' کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟''میں نے کہا :''ہاں ۔'' تو وہ عورت رونے لگی اور کہا :'' اگر مخلوق جان لے کہ کل قیامت میں انہیں کن حالات کا سامنے کرنا پڑے گا تو دنیا کی کسی چیز سے نہ تو کبھی ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور نہ ہی ان کے دل کبھی لذت پاسکیں۔''

    پھر کچھ دیربعد اس عورت کا بیٹا جس کانام ضیغم تھا، اس کے پاس آیا تو اس نے کہا:'' اے ضیغم! تیرا کیا خیال ہے کہ کیا میں کل قیامت کے دن تجھے محشر میں دیکھ سکو ں گی یا ہمارے درمیان کوئی رکاوٹ ہوگی؟'' حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' یہ بات سن کر بچے نے ایسی زور دار چیخ ماری کہ مجھے گمان ہو اکہ شاید اس کا دل پھٹ گیا ہے ۔'' پھر وہ بچہ غش کھا کر گر گیاتو وہ خاتون رونے لگیں اور ان کو روتے دیکھ کر میں بھی رونے لگاپھر جب بچے کو کچھ افاقہ ہو اتو اس نے بچے کو پکارا : ''اے ضیغم! ''بچے نے جواب دیا: ''میں حاضرہوں،امی جان ۔''پوچھا :''کیا تم موت کو پسندکرتے ہو ؟'' اس نے کہا :''ہا ں ۔'' ماں نے پوچھا:'' بیٹا! موت کو کیوں پسند کرتے ہو؟ ''بیٹے نے جواب دیا : ''تا کہ میں آپ سے بہتر یعنی اللہ ربُّ العزت عزوجل کے پاس چلاجاؤں کیونکہ وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے، اس نے مجھے