| آنسوؤں کا دریا |
اوردیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں وادی کے بیچ میں سوئے ہوئے ہیں۔ان کے سرہانے ایک بہت بڑااژدھا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے منہ میں یاسمین کی ایک ٹہنی تھی جس کے ذریعے وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مکھیاں اڑارہا تھا مجھے اس پر تعجب ہوااسی وقت اللہ عزوجل ( جس نے ہر چیز کو بولنا سکھا یا)نے اژدھے کوقوتِ گویائی عطا فرمائی تو اس اژدھے نے مجھ سے کہا:'' اے شخص! تم کیوں حیران ہو؟''میں نے کہا :''تمہارے اس فعل پر حیران ہوں اور اس سے زیادہ تمہارے بولنے پر حیران ہوں کہ تُو تو آدمی کا دشمن ہے۔'' تو اژدھے نے جواب دیا:'' خدائے عظیم کی قسم !ہمیں اللہ عزوجل نے فقط گناہگاروں کا دشمن بنایا ہے جبکہ نیکو کارو ں کے تو ہم تابعدار ہیں۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم) چند اشعار
فِعَالِیْ قَبِیْحٌ وَّظَنِّیْ حَسَنْ وَرَبِّیْ غَفُوْرٌ کَثِیْرُ الْمِنَنْ تُبَارِزُ مَوْلَاکَ یَامَنْ عَصٰی وَتَخْشٰی مِنَ الْجَارِ لَمَّا فَطِنْ رَکِبْتُ الْمَعَاصِیَ وَشَیْبِیْ مَعِیَ فَوَاللہِ یَانَفْسُ مَاذَا حَسَنْ فَقُوْمِیْ الدَّیَاجِیْ لَہُ وَارْغَبِیْ وَقُوْلِیْ لَہُ یَاعَظِیْمَ الْمِنَنْ وَقُوْلِیْ لَہُ یَا عَظِیْمَ الرَّجَا اِذَاأَنْتَ لَمْ تَعْفُ عَنِّیْ فَمَنْ بِحَقِّ النَّبِیِّ ھُوَ الْمُصْطَفٰی بِحَقِّ الْحُسَیْنِ بِحَقِّ الْحَسَنْ أَیُدْفَعُ مِثْلِیْ اِلٰی مَالِکٍ وَ تَعْلَمُ اَنِّیْ ضَعِیْفُ الْبَدَنْ
ترجمہ:(۱)میرے اعمال برے ہیں اور(اللہ عزوجل سے) گمان اچھا ہے ،اورمیرا رب بخشنے والا، بہت زیادہ احسان فرمانے والا ہے ۔
(۲)اے گناہ کے مرتکب! تو اپنے مولا عزوجل کو(مقابلے کا) چیلنج کرتاہے اور پڑوسی کوئی