سَرکارِ مدینہ،رَاحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشادفرمایا :'' کیاتم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ''عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ تو دینار ہوں نہ ہی درہم ہوں۔'' تو حضورِ پاک ،صاحب ِلولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' ایسا نہیں ہے بلکہ مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے، زکوٰۃ ،اور صدقہ لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کو تھپڑ مارا ہوگا، کسی کامال دبالیا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا تو اسے اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور پھر ایک شخص آئے گا اسے بھی اسی طرح اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ لوگو ں کے حقوق ادا کرنے سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی پھر اسے ان کے گناہ دے دئیے جائیں گے تواسے ان لوگو ں کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہی شخص مفلس ہے ۔''