ترجمہ:(۱)اے ذوالجلال! میں تجھ سے امید لگا ئے تیری بارگاہ میں حاضرہوں، میری بدحالی تجھ پر عیاں ہے،اس کودور فرما دے۔
(۲)(اے)میرے آقا!میں نے تیری نافرمانی کی ،مجھے اپنی جہالت پر افسو س ہے کیونکہ میرے دل پرگناہ کے عیب کاکھٹکاتک نہ گزرا۔
(۳)اے آقاؤں کے آقا!غلام اپنے آقا کے سواکس سے فریادکرے۔
(۴)اے کاش ! مجھے میری ماں نہ جنتی اور میں رات کی تاریکی میں تیری نافرمانی نہ کرتا ۔
(۵)میں تیراوہ ہی ادنیٰ ساگناہ گاربندہ ہوں،اے ذوالجلال! تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔
(۶)اے میرے پرورد گار! اگر تو میری پکڑفرمائے توبے شک میں عذاب او رسزا کے لائق ہوں۔
(۷)اور اگرتومعا ف کردے تو میں توتیرے عفوہی کا امیدوار ہوں اور اگرتومیری بداعمالی سے درگزرفرمائے (تومیرے حق میں) بہت اچھاہوگا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!
اللہ عزوجل فرماتا ہے:'' اے میرے بندو ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے دنیا کو تکلیف اور امتحان کا گھر بنایا ہے اور میں فضل واحسان کے مراتب اسی کو بخشتا ہوں جو دنیا میں لغزش اور گناہ کی جگہوں سے دور رہتاہے،۔۔۔۔۔۔ پھر تمہیں کیا ہوا کہ تم میرے دروازے پر نہیں آئے او رتم نے میرے فضل وثواب میں رغبت نہیں کی اورنہ ہی میری پکڑ اور عذاب سے خوفزدہ ہوئے۔''