ترجمہ:(۱)جب ملنے اورراضی ہونے کازمانہ گزر گیا تو تُو گزرے ہوئے معاملے کولوٹانے کامطالبہ کرنے لگا۔
(۲) تُوکیوں نہ آیاحالانکہ تجھ سے ملاقات کا وقت موجود تھا اور تیرے بڑھاپے کی سفیدی دانتوں(کی سفیدی )سے زیادہ چمکدارتھی ۔
پیارے اسلامی بھائی!
یہ تو بہ واستغفار کرنے اور گناہوں سے باز آجانے کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے کہ''جس کی زندگی کے چالیس سال گزر گئے اور اسکی بھلائی اس کی برائی پر غالب نہیں ائی تو اسے چاہیے وہ جہنم کے لئے تیار ہوجائے۔''
(تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ،کتاب المبتداء،الفصل الثانی،ج۱،ص۲۰۵،رقم۶۸،بتصرفٍ )
اَتَیْتُکَ رَاجِیًا یَا ذَا الْجَلَالِ فَفَرِّجْ مَاتَرٰی مِنْ سُوْءِ حَالِیْ
عَصَیْتُکَ سَیِّدِیْ وَیْلِیْ بِجَھْلِیْ وَعَیْبُ الذَّنْبِ لَمْ یَخْطُرْ بِبَالِیْ
اِلٰی مَنْ یَّشتَکِیْ الْمَمْلُوْکُ اِلَّا اِلٰی مَوْلَاہُ یَامَوْلَی الْمَوَالِیْ
فَوَیْلِیْ، لَیْتَ اُمِّیْ لَمْ تَلِدْنِیْ وَلَا اَعْصِیْکَ فِیْ ظُلَمِ اللَّیَالِیْ