تو حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا :'' تمہارا واقعہ کیا ہے؟'' اس نے عرض کی :''اے روح اللہ علیہ السلام ! رات کو ہم چین سے سوئے تھے اور صبح کو ہلاکت میں مبتلاء ہوگئے ۔'' پوچھا: '' ایسا کیو نکر ہوا؟''عرض کی:'' دنیا کی محبت اور بدکارو ں کی پیروی کی وجہ سے۔'' حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : ''دنیا سے تمہاری محبت کیسی تھی؟ '' عرض کی: ''جیسی ایک بچے کو اپنی ماں سے ہوتی ہے جب وہ ہمارے پاس آتی تو ہم خوش ہوتے اور جب ہم سے جدا ہوتی تو ہم غمگین ہوتے اور رونے لگتے ۔''
پھر حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السلام نے پوچھا :'' اے فلا ں! تمہارے ساتھیوں کوکیا ہوا وہ کیوں نہیں جواب دیتے؟'' عرض کی:'' ان کے جبڑوں میں بہت طاقتور فرشتوں نے آگ کی لگامیں ڈال رکھی ہیں۔''فرمایا:''تُو ان میں سے کیسے جواب دے رہاہے ؟'' عرض کی:'' میں ان کے ساتھ تو ہوں مگر حقیقت میں ان میں سے نہیں، جب ان پر عذاب آیا تو ان کے ساتھ ساتھ میں بھی عذاب میں مبتلا ہوگیا میں اس وقت جہنم کے کنارے پر لٹکاہوا ہوں اورمیں نہیں جانتا کہ مجھے اس سے نجات ملے گی یامیں جہنم میں دھکیل دیا جاؤں گا ۔''والعیاذ باللہ