Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
68 - 303
توبہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے قبول فرماتاہے اور اگر عذرپیش کرتا ہے تو اس کا عذر قبول فرماتاہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ مومن روح نکلنے سے پہلے اپنے دل میں ٹھنڈک محسو س کرتاہے ۔''

    یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :'' اللہ اکبر ! بے شک میں اپنے دل میں ٹھنڈک محسوس کررہا ہوں۔'' پھر دعا کی:'' اے اللہ عزوجل! بے شک میں تیرے ثواب کی طمع رکھتاہوں، لہذا! تو میرے گمان کو سچ کردے اور میرے خوف اور گھبراہٹ کو دو ر فرمادے ۔''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور انتقال فرماگئے ۔''

توبہ کا سبب :

     حضرتِ سیِّدُنا داؤد طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تو بہ کا سبب یہ تھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک قبرستان میں داخل ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک قبرکے قریب کسی عورت ۱؎ کوروتے ہوئے پایااور یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا:
تَزِیْدُ بِلًی فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ		وَتَسْأَلُ لِمَ تَبْلٰی وَاَنْتَ حَبِیْبُ

مُقِیْمٌ اِلٰی اَنْ یَّبْعَثَ اللہُ خَلْقَہُ		لِقَاؤُکَ لَایُرْجٰی وَاَنْتَ قَرِیْبُ
ترجمہ:(۱)ہردن رات میرے غم میں اضافہ ہورہا ہے اورتُو پوچھتا ہے کیوں غمزدہ ہے ، حالانکہ تُوہی میرامحبوب ہے ۔

    (۲)تم اللہ عزوجل کے(بروزقیامت) اپنی مخلوق کوکھڑا کرنے تک یہیں رہوگے ، باوجو د قریب ہونے کے تمہاری ملاقات کی کوئی امید نہیں ۔
۱؎حضرت صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں:''اوراسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقامنع کی جائیں کہ اپنوں کی قبورکی زیارت میں تووہی جزع وفزع ہے اورصالحین کی قبورپریاتعظیم میں حدسے گزرجائیں گی یابے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔''    (بہارشریعت،جلد۱،حصہ ۴،ص۸۹)
Flag Counter