Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
66 - 303
ترجمہ:(۱) دنیادارکی خوش حالی پرمطمئن نہ ہونا ،کیونکہ اس کی خوش حالی تومحض فساد ہے۔

    (۲)اوراپنے کمائے ہوئے مال پر خوشی مت کر کیونکہ اس سے تواپنی مراد حاصل نہیں کرسکتا۔
نزع کے عالم میں مسکراہٹ :
     حضرتِ سیِّدُنا بایز ید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے انتقال کے وقت رونے لگے پھر ہنس دئیے پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ دنیا چھوڑ کر رخصت ہوگئے تو ان کے انتقال کے بعد کسی نے انہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا :'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ انتقال سے قبل کیوں روئے اور پھر کیوں ہنسے ؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' جب میں نزع کے عالم میں تھا توشیطان ملعون میرے پاس آیا اور مجھ سے کہنے لگا :'' اے بایزید! تم میرے جال سے آزاد ہوگئے ۔'' تومیں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرنے لگاپس آسمان سے ایک فرشتہ میرے پاس اُتر ا اور مجھ سے کہنے لگا:'' اے بایزید ! رب العالمین عزوجل تجھ سے فرماتاہے:'' ڈرو مت اور غم نہ کرو اور جنت کی خوشخبری سن لو ۔''تو میں ہنسنے لگا اور دنیاسے رخصت ہوگیا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

چنداشعار
وَقَفْتُ وَاَجْفَانِیْ تَفِیْضُ دُمُوْعُھَا			وَقَلْبِیْ مِنْ خَوْفِ الْقَطِیْعَۃِ ھَائِمُ

وَکُلُّ مُسِیْءٍ اَوْبَقَتْہُ ذُنُوْبُہُ			ذَلِیْلٌ حَزِیْنٌ مُّطْرِقُ الطَّرْفِ نَادِمُ

فَیَارَبِّ ذَنْبِیْ قَدْ تَعَاظَمَ قَدْرُہُ			وَاَنْتَ بِمَا أَشْکُوْہُ یَاربِّ عَالِمُ

وَاَنْتَ رَؤُوْفٌ بِالْعِبَادِ مُھَیْمِنٌ			حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ وَاسِعُ الْعَفْوِ رَاحِمُ
ترجمہ:(۱)میں رک گیا اور میری آنکھیں اپنے آنسو بہارہی ہیں اوردل جدائی کے غم سے حیران وپریشان ہے۔

    (۲)ہررُسواشخص کواس کے گناہوں نے ہلاک وبرباد کردیا ،وہ ذلیل، غمگین ، اورندامت
Flag Counter