Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
65 - 303
دِلا غافل نہ ہویکدم یہ دنیاچھوڑجاناہے 		باغیچے چھوڑکر خالی زمیں اندر سمانا ہے

ترانازک بدن بھائی جولیٹے سیج پھولوں پر		یہ ہوگاایک دن بے جاں اسے کیڑوں نے کھاناہے

تواپنی موت کو مت بھول کرسامان چلنے کا		زمیں کی خاک پرسوناہے اینٹوں کاسرہاناہے

نہ بیلی ہوسکے بھائی نہ بیٹاباپ تے مائی			توکیوں پھرتاہے سودائی عمل نے کام آناہے

کہاں ہے زورِنمرودی کہاں ہے تختِ فرعونی 		گئے سب چھوڑیہ فانی اگرنادان داناہے

عزیزایادکرجس دن کہ عزرائیل آئیں گے		نہ جاوے کوئی تیرے سنگ اکیلاتونے جاناہے

جہاں کے شغل میں شاغل خداکے ذکرسے غافل		کرے دعوی کہ یہ دنیامیرادائم ٹھکانا ہے

غلام اک دم نہ کرغفلت حیاتی پرنہ ہوغرّہ		خداکی یادکرہردم کہ جس نے کام آناہے
حساب ِ دنیا:
     حضورِ پاک ،صاحب ِلولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ'' قیامت کے دن مال حلال جمع کرنے والے اور اسے حلال جگہ خرچ کرنے والے ایک شخص کو لایاجائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ'' حساب کے لئے کھڑے رہو۔'' پھر اس سے ہر دانے ،ذرے اور ہر ہر دانق (درہم کے چھٹے حصے)کا حساب لیاجائے گا کہ اس نے اسے کہا ں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ۔''

    پھر سیِّدُالمبلغین،رَحْمۃٌلّلعالَمِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :''اے ابنِ ِآدم ! تو ایسی دنیا کا کیا کریگا جس کے حلال کا حساب دینا پڑے گا اور حرام کی سزا بھگتنا پڑے گی ۔''
 (کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال ، رقم ۶۳۲۵،ج۳ ، ص ۹۷)
چنداشعار
فَلَا تَأْمَنْ لِذِیْ الدُّنْیَا صَلَاحًا		فَاِنَّ صَلَاحَھَا عَیْنُ الْفَسَادِ

وَلَا تَفْرَحْ لِمَالٍ تَقْتَنِیْہِ			فَاِنَّکَ فِیْہِ مَعْکُوْسُ الْمُرَادِ
Flag Counter