| آنسوؤں کا دریا |
فَیَا طُوْلَ حُزْنِیْ ثُمَّ یَاطُوْلَ حَسْرَتِیْ اِذَا کُنْتُ فِیْ نَارِ الْجَحِیْمِ اُعَذَّبُ وَقَدْظَھَرَتْ تِلْکَ الْقَبَائِحُ کُلُّھَا وَقَدْ قُرِّبَ الْمِیْزَانُ وَالنَّارُ تَلْھَبُ وَلٰکِنَّنِیْ اَرْجُوْ الْاِلٰہَ لَعَلَّہُ بِحُسْنِ رَجَائِیْ فِیْہِ لِیْ یَتَوَھَّبُ وَیُدْخِلُنِیْ دَارَالْجِنَانِ بِفَضْلِہِ فَلَا عَمَلٌ اَرْجُوْ بِہِ أَتَقَرَّ بُ سِوٰی حُبِّ طٰہَ الْھَاشَمِیِّ مُحَمَّدٍ وَاَصْحَابِہِ وَالْآلِ مَنْ قَدْ تَرَھَّبُوْا
ترجمہ:(۱)مجھے اپنی جان پرافسوس کرنے دواور تھوڑاتھوڑاکرکے بہت زیادہ آنسو بہانے والے کی طرح نادِم ہونے دو ۔
(۲) مجھے اپنے نفس پرافسوس کرنے دوکیونکہ میں اپنی کمزور جان کے ہلاکت میں ڈالے جانے سے ڈرتا ہوں۔
(۳) جب منادِی گنہگاروں کوپکارے گااس وقت میرا کون ہوگا ؟میں کہاں پنا ہ لوں گا، یامیں کس طرف بھاگوں گا؟
(۴)ہائے ! میرا طویل غم اورپھرلمبی حسرت،جبکہ میں نارِدو زخ میں عذاب دیا جاؤں گا۔(والعیاذ باللہ عزوجل )
(۵)وہ تمام برائیاں ظاہر ہوچکی ہیں، میزان عمل بھی قریب کردیاگیا اور آگ بھڑک رہی ہے۔
(۶)مگر میں اللہ عزوجل سے امیدکرتاہوں ،شاید وہ میرے حسن ظن کے سبب مجھ پر کرم فرمائے ۔
(۷)اور اپنے فضل سے مجھے جنت میں داخل فرمادے ،میرے پاس تو کوئی حسنِ عمل ایسانہیں جس کے سبب قرب کی امید رکھوں ۔
(۸)بس طٰہٰ وہاشمی حضرت سیدنا محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی آل واصحاب کی محبت ہے جوحقیقی عبادت گزار تھے ۔