Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
63 - 303
اور کہنے لگا : ''اے ابو نصر! میرے سردار ۔'' حضرتِ سیِّدُنا بشررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے خود سے الگ نہ فرمایا ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوٹنے لگے تو آپ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''یہ وہ شخص ہے جو اپنے گمان کے مطابق ایک آدمی سے اس کی نیکی کی وجہ سے محبت کرتاہے شاید یہ محبت کرنے والا تو نجات پاجائے جبکہ محبو ب (یعنی میں)نہیں جانتا کہ اس کا کیا حال ہوگا۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پھل فروشو ں کے پاس رُک کر پھل دیکھنے لگے میں نے پوچھا:'' شاید آپ کو پھلوں کی خواہش ہے؟ ''فرمایا: ''نہیں بلکہ میں تو یہ دیکھ رہا ہو ں کہ جب اللہ عزوجل اپنے نافرمان کو یہ نعمتیں کھلا رہا ہے تو اپنے فرمانبردار کو کیا کچھ نہیں کھلائے گا اورجنت میں اسے کیا کچھ کھلائے پلائے گا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ علیہ وسلم)

    میرے اسلامی بھائی! ہائے افسوس! اے غافل! کب تک سوتا رہے گا ؟ کیا گزرنے والے دن اور راتیں تجھے نہیں جگائیں گی؟ محلات اور خیموں کے مکین کہاں گئے ؟ خدا کی قسم! موت کا پیالہ ان پر گھوم گیا اور موت نے انہیں اس طر ح اٹھالیا جس طرح کبوتر گندم کا دانہ اٹھاتا ہے ۔ مخلوق کو دنیا میں دوام نہیں، صحیفے لپیٹ دئیے گئے اور قلم خشک ہوگئے ۔

چنداشعار
دَعُوْنِیْ   عَلٰی  نَفْسِیْ  اَنُوْحُ   وَاَنْدُبُ 		بِدَمْعِ     غَزِیْرٍ     وَّاکِفٍ     یَّتَصَبَّبُ

دَعُوْنِیْ   عَلٰی   نَفْسِیْ   اَنُوْحُ    لِأَنَّنِیْ		اَخَافُ عَلٰی نَفْسِیْ الضَّعِیْفَۃِ تُعْطَبُ

فَمَنْ لِیْ اِذَا نَادٰی الْمُنَادِیْ بِمَنْ عَصٰی		اِلٰی   اَیْنَ   اَلْجَا اَمْ   اِلٰی   اَیْنَ   اَذْھَبُ
Flag Counter