Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
61 - 303
سے فرمایا کہ''جنت کے ہرپھل سے کھاؤ اور اس کی نہروں سے پیؤ اور اس کی تمام نعمتوں سے فائد ہ اٹھاؤ کہ تم دنیا میں اپنے نفس کو خواہشات سے بچایا کرتے تھے ۔''

    میں نے پوچھا :''آپ کے بھائی حضرت سیدنااحمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہاں ہیں؟'' فرمایا کہ'' وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں او ران سُنّیوں کی شفاعت کر رہے ہیں جو یہ کہتے تھے کہ'' قرآن اللہ عزوجل کا کلا م ہے مخلوق نہیں ہے ۔'' میں نے پوچھا کہ'' اللہ عزوجل نے حضرتِ سیِّدُنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو انہوں نے کہا کہ'' افسوس! ہائے افسو س ! ہمارے اور ان کے درمیان بہت سے پر دے حائل ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا معروف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جنت کے شوق اور جہنم کے خوف سے اللہ عزوجل کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ قُربِ الٰہی عزوجل کے شوق میں عبادت کرتے تھے لہٰذا !اللہ عزوجل نے انہیں رفیق اعلیٰ کی طرف اٹھالیااور اپنے اور ان کے درمیان کے حجابات اٹھالئے۔''

     یہی وہ مجرب اِکسیر ہے لہٰذا جس نے بارگاہِ الٰہی عزوجل میں کوئی حاجت پیش کرنی ہو تواسے چاہیے کہ حضرتِ سیِّدُنا معروف کر خی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پر حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے تو ان شآء اللہ عزوجل اس کی دُعاء ضرور قبول ہوگی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)