Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
60 - 303
بچپن ہی میں اپنی ولایت سے سر فراز فرمادیا تھا۔چنانچہ ان کے بھائی حضرت عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ ''میں اور میرے بھائی معروف ایک مکتب میں پڑھتے تھے ۔ہم اس وقت عیسائی تھے، ہمارا عیسائی اُستاد بچوں کو باپ اور بیٹے کا در س دیتا(یعنی یہ کہتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام،اللہ عزوجل کے بیٹے ہیں ،معاذ اللہ عزوجل) تومیرے بھائی معروف چیخ چیخ کر اَحَد،اَحَد(یعنی وہ ایک ہے ، وہ ایک ہے)کہتے تو عیسائی اُستاد انہیں خوب مارتا یہاں تک کہ ایک دن اس نے انہیں اتنا مارا کہ وہ مکتب سے بھاگ گئے ۔

    میری ماں روتی اور کہتی کہ'' اگر اللہ عزوجل مجھے معروف واپس کر دے تو وہ جس دین پرہوگا میں بھی اسی دین کی پیروی کروں گی۔'' تو کئی سال کے بعد حضرتِ سیِّدُنا معروف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والد ہ کے پاس آئے تو والدہ نے پوچھا کہ'' بیٹا! تم کس دین پرہو ؟'' انہوں نے بتایا کہ'' دین ِاسلام پر۔''میری ماں نے
اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
پڑھا ۔اس طرح میری ماں مسلمان ہوئیں اور ہم سب بھی مسلمان ہوگئے ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

    حضرتِ سیِّدُنا احمد بن فتح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں نے سیدنا بشربن حارث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ ایک باغیچہ میں بیٹھے ہیں ۔ان کے سامنے ایک دستر خوان ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا:''اے ابونصر ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟'' جواب دیا:'' اس نے مجھ پررحم فرمایا اور مجھے بخش دیا اور ساری جنت کو میرے لئے مباح فرمادیا اور مجھ
Flag Counter