بچپن ہی میں اپنی ولایت سے سر فراز فرمادیا تھا۔چنانچہ ان کے بھائی حضرت عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ ''میں اور میرے بھائی معروف ایک مکتب میں پڑھتے تھے ۔ہم اس وقت عیسائی تھے، ہمارا عیسائی اُستاد بچوں کو باپ اور بیٹے کا در س دیتا(یعنی یہ کہتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام،اللہ عزوجل کے بیٹے ہیں ،معاذ اللہ عزوجل) تومیرے بھائی معروف چیخ چیخ کر اَحَد،اَحَد(یعنی وہ ایک ہے ، وہ ایک ہے)کہتے تو عیسائی اُستاد انہیں خوب مارتا یہاں تک کہ ایک دن اس نے انہیں اتنا مارا کہ وہ مکتب سے بھاگ گئے ۔
میری ماں روتی اور کہتی کہ'' اگر اللہ عزوجل مجھے معروف واپس کر دے تو وہ جس دین پرہوگا میں بھی اسی دین کی پیروی کروں گی۔'' تو کئی سال کے بعد حضرتِ سیِّدُنا معروف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والد ہ کے پاس آئے تو والدہ نے پوچھا کہ'' بیٹا! تم کس دین پرہو ؟'' انہوں نے بتایا کہ'' دین ِاسلام پر۔''میری ماں نے